مطالبہ ضلع تلہ گنگ

ہمارا مطالبہ ضلع تلہ گنگ



تحریر ملک احمد نواز جھابری تلہ گنگ


ناظرین کرام وطن سے محبت علاقے سے محبت اپنے شہر گاؤں سے محبت اپنی جائے پیدائش سے محبت ایک فطری بات ہے اور یہ محبت اللہ تعالی نےخصوصی طور پر ہر بچے بوڑھے جوان مرد و عورت نے رکھی ہے 

اور یہ محبت نہ تو گناہ ہے نہ جرم ہے اور نہ قابل سزا ہے بلکہ اسے دھرتی ماں کے حق کا درجہ دیا گیا اب ہر شخص خود اندازہ لگا لے کے ماں سے محبت کتنی پاکیزہ اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہے لہذا قدرت کی اس نعمت سے انکار بھی کفر ہے

معزر قارئین اسی جزبے اور محبت کو لیکر اپنی دھرتی ماں کے حقوق اس میں بسنے والے بہن بھائیوں بزرگوں بچوں کیلۓ بنیادی سہولیات سے لیکر اچھے روزگار اور بہتر مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کی اچھی تعلیم صحت کی سہولیات طالبات کو انکی دہلیز پر اعلی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت نوجوانوں کو ہنر مند انجینئر یا ڈاکٹر بننے کیلۓ قریب ترین درسگاہ اور یونیورسٹی تک کی سہولیات کیلۓ آواز بلند کرنا اگر دنیا کے کسی مذہب ملک یا قانون میں منع ہے تو بتا دیں

قابل صد احترام قارئین اوپر لکھی ہوئی تمام سہولیات اور علاقے کی محبت روشن مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اسکے بنیادی زریعہ ضلع تلہ گنگ کا مطالبہ جب ہم کر رہے ہیں تو یقین جانیں نہ کسی علاقے سے نفرت نہ بغض نہ حسد کر رہے ہیں بلکہ ضلع ملنے کے بعد جو سہولیات ملتی ہیں ان سے علاقے کی تعمیر و تروقی لاوہ تلہ گنگ سمیت قرب و جوار کے وہ علاقے یا تحصیلں جن کو اپنے ضلع کے مرکز تک پہنچنے کیلئے دو سے تین گھنٹے تک کا سفر تہہ کرکے پہنچنا پڑتا ہے اور پہنچنے پر کسی بھی آفس سے جب یہ جواب ملتا ہے صاحب آج چھٹی پر ہیں کل آنا سن کر غمگین آنکھوں میں آنسو کا قطرہ چھپا کر باہر نکل کر طویل سفر اور سفری اخراجات اور پورا دن ضائع ہونے کے بعد آنے والے کل کےاخراجات سامنے رکھتے ہوئے وہ شخص بوجھل قدموں سے اس دفتر سے نکل کر جو آہ نکالتا ہے ہم اسکی تکالیف میں کمی کیلۓ ضلع تلہ گنگ چاہتے ہیں

عجیب بحث و مباحثہ اور نفرت بھری تحریریں لکھ لکھ ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرکے نہ جانے ہم کونسا قلعہ فتح کرنے کے درپے ہیں انتہائی معزرت کے ساتھ نفرت حسد تلہ گنگ سے بغض ایک جاہلانہ سوچ جو کے ایک فیصد سے بھی کم ہے وہ ایسے لگی 

جیسے خدانخواستہ ضلع تلہ گنگ بننے سے ان لوگوں کو سرعام قتل کر دیا جائے گا 

میری زاتی رائے اور لاوہ سے پیر پھلائی چکوال علاقہ ونہار سے ڈھلیاں چوک پنڈی گھیب ڈھڈیال چکوال سے سرگودہا روڈ وادی سون سکیر چکڑالہ سے تراپ اور پھر کلر کہار تک 99 فیصد کوئی بھی زی شعور شخص یا مزہبی و سیاسی شخصیت ڈاکٹرز اور وکلا برادری ہمارے اس مطالبہ پر مخالفت نہی کر رہی ایک فیصد گھٹیا سوچ نے کچھ منفی پراپگنڈہ کرکے تلہ گنگ کے قرب و جوار میں نفرت کی فضا بنانے کی کوشش کی وہ بھی اب دم توڑ چکی ہے 

معزز قارئین ضلع تلہ گنگ کا ہمارا مطالبہ چکڑالہ سے کلر کہار تک پنڈی گھیب سے سون سکیسر تک بسنے والے بسنے والے لاکھوں انسانوں کے بہتر مستقبل تعمیر و ترقی اور سہولیات کا مطالبہ ہے میری اہلیان پنڈی گھیب چکڑالہ سون سکیسر کلر کہار سمیت دوسرے قریب ترین علاقے کے لوگوں سے گزارش ہے سوچیں اگر ضلع تلہ گنگ بن جانے سے بہت سی سہولیات آپکے بچوں کے روشن مستقبل اور روزگار کے وافر زرائع مل جانے سے آپ لوگوں کو نذدیک ترین مواقع مل رہا ہے تو منفی سوچ اور حاسدین کی خواہش کو کچلتے ہوئے ضلع تلہ گنگ پر ایک ہو جائیں 

یقین جانیں ضلع تلہ گنگ علاقے کیلۓ گیم چینجر کی حثیت رکھتا ہے ضلع تلہ گنگ انشاءاللہ بن کررہے گا سوچنے کی بات فقط اتنی ہے کے آج جو خوشحالی قریب کے دوسروں دیہاتوں یا تحصیل کے لوگوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے چند نااقبت اندیش لوگوں کی باتوں میں آکر خوشحالی کیلۓ دروازہ نہ کھولنا ضلع تلہ گنگ کی مخالفت کرنے پر کل پچھتانا نہ پڑے 

سوچینے گا ضرور 

ملک احمد نواز جھہمارا مطالبہ ضلع تلہ گنگ


تحریر ملک احمد نواز جھابری تلہ گنگ


ناظرین کرام وطن سے محبت علاقے سے محبت اپنے شہر گاؤں سے محبت اپنی جائے پیدائش سے محبت ایک فطری بات ہے اور یہ محبت اللہ تعالی نےخصوصی طور پر ہر بچے بوڑھے جوان مرد و عورت نے رکھی ہے 

اور یہ محبت نہ تو گناہ ہے نہ جرم ہے اور نہ قابل سزا ہے بلکہ اسے دھرتی ماں کے حق کا درجہ دیا گیا اب ہر شخص خود اندازہ لگا لے کے ماں سے محبت کتنی پاکیزہ اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہے لہذا قدرت کی اس نعمت سے انکار بھی کفر ہے

معزر قارئین اسی جزبے اور محبت کو لیکر اپنی دھرتی ماں کے حقوق اس میں بسنے والے بہن بھائیوں بزرگوں بچوں کیلۓ بنیادی سہولیات سے لیکر اچھے روزگار اور بہتر مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے بچوں کی اچھی تعلیم صحت کی سہولیات طالبات کو انکی دہلیز پر اعلی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت نوجوانوں کو ہنر مند انجینئر یا ڈاکٹر بننے کیلۓ قریب ترین درسگاہ اور یونیورسٹی تک کی سہولیات کیلۓ آواز بلند کرنا اگر دنیا کے کسی مذہب ملک یا قانون میں منع ہے تو بتا دیں

قابل صد احترام قارئین اوپر لکھی ہوئی تمام سہولیات اور علاقے کی محبت روشن مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اسکے بنیادی زریعہ ضلع تلہ گنگ کا مطالبہ جب ہم کر رہے ہیں تو یقین جانیں نہ کسی علاقے سے نفرت نہ بغض نہ حسد کر رہے ہیں بلکہ ضلع ملنے کے بعد جو سہولیات ملتی ہیں ان سے علاقے کی تعمیر و تروقی لاوہ تلہ گنگ سمیت قرب و جوار کے وہ علاقے یا تحصیلں جن کو اپنے ضلع کے مرکز تک پہنچنے کیلئے دو سے تین گھنٹے تک کا سفر تہہ کرکے پہنچنا پڑتا ہے اور پہنچنے پر کسی بھی آفس سے جب یہ جواب ملتا ہے صاحب آج چھٹی پر ہیں کل آنا سن کر غمگین آنکھوں میں آنسو کا قطرہ چھپا کر باہر نکل کر طویل سفر اور سفری اخراجات اور پورا دن ضائع ہونے کے بعد آنے والے کل کےاخراجات سامنے رکھتے ہوئے وہ شخص بوجھل قدموں سے اس دفتر سے نکل کر جو آہ نکالتا ہے ہم اسکی تکالیف میں کمی کیلۓ ضلع تلہ گنگ چاہتے ہیں

عجیب بحث و مباحثہ اور نفرت بھری تحریریں لکھ لکھ ایک دوسرے پر طعنہ زنی کرکے نہ جانے ہم کونسا قلعہ فتح کرنے کے درپے ہیں انتہائی معزرت کے ساتھ نفرت حسد تلہ گنگ سے بغض ایک جاہلانہ سوچ جو کے ایک فیصد سے بھی کم ہے وہ ایسے لگی 

جیسے خدانخواستہ ضلع تلہ گنگ بننے سے ان لوگوں کو سرعام قتل کر دیا جائے گا 

میری زاتی رائے اور لاوہ سے پیر پھلائی چکوال علاقہ ونہار سے ڈھلیاں چوک پنڈی گھیب ڈھڈیال چکوال سے سرگودہا روڈ وادی سون سکیر چکڑالہ سے تراپ اور پھر کلر کہار تک 99 فیصد کوئی بھی زی شعور شخص یا مزہبی و سیاسی شخصیت ڈاکٹرز اور وکلا برادری ہمارے اس مطالبہ پر مخالفت نہی کر رہی ایک فیصد گھٹیا سوچ نے کچھ منفی پراپگنڈہ کرکے تلہ گنگ کے قرب و جوار میں نفرت کی فضا بنانے کی کوشش کی وہ بھی اب دم توڑ چکی ہے 

معزز قارئین ضلع تلہ گنگ کا ہمارا مطالبہ چکڑالہ سے کلر کہار تک پنڈی گھیب سے سون سکیسر تک بسنے والے بسنے والے لاکھوں انسانوں کے بہتر مستقبل تعمیر و ترقی اور سہولیات کا مطالبہ ہے میری اہلیان پنڈی گھیب چکڑالہ سون سکیسر کلر کہار سمیت دوسرے قریب ترین علاقے کے لوگوں سے گزارش ہے سوچیں اگر ضلع تلہ گنگ بن جانے سے بہت سی سہولیات آپکے بچوں کے روشن مستقبل اور روزگار کے وافر زرائع مل جانے سے آپ لوگوں کو نذدیک ترین مواقع مل رہا ہے تو منفی سوچ اور حاسدین کی خواہش کو کچلتے ہوئے ضلع تلہ گنگ پر ایک ہو جائیں 

یقین جانیں ضلع تلہ گنگ علاقے کیلۓ گیم چینجر کی حثیت رکھتا ہے ضلع تلہ گنگ انشاءاللہ بن کررہے گا سوچنے کی بات فقط اتنی ہے کے آج جو خوشحالی قریب کے دوسروں دیہاتوں یا تحصیل کے لوگوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے چند نااقبت اندیش لوگوں کی باتوں میں آکر خوشحالی کیلۓ دروازہ نہ کھولنا ضلع تلہ گنگ کی مخالفت کرنے پر کل پچھتانا نہپڑےسوچئےگا ررھ

Comments

Popular Posts