عالمِ عرب، طاہر القادری

ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی آج کل مکمل توجہ
عالمِ عرب پر ہے ، اس لئے ان کی اکثر نئی علمی کاوشیں عربی زبان میں سامنے آ رہی ہیں، کیونکہ گزشتہ 100 سال میں عالمِ عرب بالخصوص سعودی عرب سے قرآن و حدیث کی جو بے بنیاد نئی تشریحات و تاویلات سامنے آئیں ، اس سے عالمِ اسلام شدید متاثر ہوا اور فرقہ پرستی کی نئی نئی صورتیں سامنے آئیں جس سے امت کے افتراق و انتشار میں زبردست اضافہ ہوا۔ عالمِ عرب جو اسلام کا گڑھ اور گہوارہ اور عالمِ اسلام کے اتحاد کا سب سے بڑا مرکز رہا ہے وہاں پر تقریبًا 100 سال پہلے ایک ایسی سیاسی تبدیلی واقع ہوئی جس نے سیاسی کے ساتھ ساتھ ایک نئی منتشر مذہبی فکر کی بنیاد بھی رکھ دی۔ اس مذہبی فکر کی بنیاد قرآن و حدیث کی ایسی من مانی تفسیر و تشریح اور تفہیم پر تھی کہ جس کی نہ تو کوئی علمی بنیادیں تھیں نہ تاریخی۔ قرآن و حدیث کی نئی نئی تشریحات کی گئیں، ایسی ایسی تفاسیر بیان کی گئیں جن کو 1400 سال کی علمی تاریخ میں نہ تو کسی مفسر نے بیان کیا تھا نہ کسی محدث نے، نہ کسی فقیہہ نے نہ کسی عالم نے، نہ اولیاء میں سے کسی نے اور نہ صلحاء میں سے کسی نے۔۔ اور طرفہ تماشا یہ کہ اپنی من مانی بے بنیاد تشریحات اور فکر کو اسلاف سے منسلک کر کے خود سے ہی خود کو "سلفی" کہلانا شروع کر دیا۔ حالانکہ اسلاف کی تعلیمات ان کی تشریحات اور فکر سے بالکل ہی متضاد تھیں۔ ہماری اس بات کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نام نہاد "سلفی" فکر کے قائلین اکثر اپنی تشریحات کے ضمن میں کبھی کسی مفسر، محدث، مفکر، فقیہہ، ولی اللہ کے قول کا حوالہ نہیں دیتے بلکہ قرآنی آیات کی بلا حوالہ اپنی ذہنی افتاد طبع کے مطابق اپنی ہی تشریح کرتے ہیں، حدیث کی تشریح بھی ان کی اپنی ہی ہوتی ہے جس کا اسلاف کی تشریحات سے کوئی تعلق ہی نہیں ہوتا۔ اس طرح کی تاریخِ علم اور طریقِ اسلاف کے بالکل برعکس فکر کا لازمی نتیجہ افتراق و انتشار ہی ہونا تھا، لہذا اس فکر کے سامنے آتے ہی عالمِ اسلام میں افتراق کا وہ دروازہ کھلا جس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔۔ اس فکر کو دو چیزیں ایسی میسر آئیں جس نے اس افتراقی فکر کے پھیلاؤ میں روز افزوں اضافہ کیا۔ پہلی یہ کہ اس فکر کو حرمِ پاک جیسا مرکز میسر آ گیا اور دوسرا تیل کی ریال اور دینار و دراہم میں بدلتی دولت کی پشت پناہی نے اس فکر کے پھیلاؤ میں آسانیاں فراہم کر دیں۔ اس بے بنیاد فکر کو کو جب مال و دولت کی پشت پناہی ملی تو اس کے اثرات عالمِ اسلام کے ہر علاقے میں پڑے۔ 100 سالہ کاوشوں سے اگرچہ عالمِ اسلام کے صرف 11 کروڑ لوگ (جو کہ کل اسلامی آبادی کا صرف 0.70% یعنی ایک فیصد سے بھی کم طبقہ بنتا ہے ) ہی اس فکر سے متاثر ہوئے (یعنی 5 کروڑ غیر مقلدین اور 6 کروڑ دیوبندی مکتبہ فکر) لیکن اس فکر نے سارے عالمِ اسلام کو اضطراب میں مبتلا کر دیا۔ اس فکر کے حاملین چونکہ سخت مزاج، درشت اور اپنے علاوہ باقی عالمِ اسلام کو شرک و بدعت میں مبتلا سمجھتے تھے لہذا اس کا لازمی نتیجہ انتہا پسندی، شدت پسندی اور بالآخر دہشت گردی تھا۔ پھر دنیا نے دیکھا کہ دہشت گردی اسی فکر کے وابستگان سے برآمد ہوئی۔ عالمِ اسلام ایک عظیم افتراق و انتشار میں مبتلا ہو گیا اور ایک فیصد سے بھی کم اس طبقہ کی وجہ سے پورے عالمِ اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگ گیا جسے اتارنے میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو ہی دہشت گردی کے خلاف فتوٰی کی صورت میں سامنے آنا پڑا۔ عالمِ اسلام کو افتراق و انتشار سے نکالنے کیلیے ایک ضروری معاملہ عالمِ عرب کو صحیح فکری رہنمائی فراہم کرنا بھی تھا۔۔ کیونکہ اگر عالمِ عرب کو دوبارہ سے اصل فکرِ اسلاف سے منسلک کر دیا جائے، ان میں یہ احساس اجاگر ہو کہ ہم ایک غلط ڈگر پر چل رہے ہیں ،ایسی ڈگر جو باقی امت مسلمہ سے اور اسلاف کے راستہ سے کٹی ہوئی ہے تو عالمِ اسلام کو اس افتراق و انتشار سے نکالا جا سکتا ہے۔۔ ۔۔ چانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب اس معاملہ پر بھی بے مثال کام کر رہے ہیں۔۔ انہوں نے امریکہ و یورپ کے بعد اب عالمِ عرب میں بھی اپنا اثر و رسوخ قائم کر لیا ہے۔۔ وہ عالمِ عرب کی کانفرنسز میں خصوصی شرکت بھی کر رہے ہیں اور ان کے سامنے علمی انداز میں صحیح فکرِ اسلاف بھی پیش کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی ان کاوشوں کے مثبت اثرات بھی سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں۔ ان اثرات میں آپ کی کتب کا مصر،سعودی عرب، اردن ،لبنان کی جامعات میں شاملِ نصاب ہونا بھی ہے۔۔ آپ کا تازہ علمی کارنامہ 16 جلد پر مشتمل عربی زبان میں تفسیرِ قرآن بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے،جو بیروت سے شائع ہو گی۔۔اسی طرح عنقریب آپ کا 40 جلدوں پر مشتمل ذخیرہ احادیث بھی عربی میں ہی بیروت سے شائع ہونے کے قریب ہے۔ اس ذخیرہ میں آٹھ جلدیں صرف نبی کریم (ص) کے خصائص پر مشتمل احادیث سے مخصوص ہیں اور آٹھ جلدین فقہ حنفی کے مسائل کی بنیاد احادیث پر مشتمل ہے۔۔ انسائکلو پیڈیا آف حدیث بھی مکمل ہونے والا ہے، اس انسائیکلو پیڈیا کے سامنے آتے ہی اسلاف اور عالمِ اسلام کی اکثریت کے عقائد کی بنیاد احادیث بھی بعنوان ایک جگہ اکٹھی مل جائیں گی اور جدید علمی و سائنسی تحقیقات جن احادیث سے اخذ ہوتی ہیں ان کا مجموعہ بھی دستیاب ہوگا۔ ۔۔ان سب وقیع عربی علمی شاہکاروں کے سامنے آنے کے بعد لازمًا فکرِ عرب کو جو فرنگی تخیلات سے آلودہ کر دیا گیا تھا اس کی تطہیر ہو گی اور عالمِ اسلام افتراق و انتشار سے بتدریج نکلتا جائے گا۔۔ قدرت نے اس عظیم کام کیلیے ڈاکٹر صاحب کا انتخاب کیا ہے جس پر بجا طور وہ قابلِ تعظیم ٹھہرتے ہیں۔ آپ کی عربی تفسیر ہر لحاظ سے منفرد ہو گی کیونکہ عصرِ حاضر بلکہ مستقبل قریب میں پیش آنے والے چیلنجز پر جس قدر گہری نگاہ آپ کی ہے اس وقت کسی اور کی نہیں۔ ان چیلنجز سے کس طرح عہدہ برآ ہوا جا سکتا، اس کو بھی آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ علمی لحاظ سے آپ کا مرتبہ ویسے ہی تسلیم شدہ ہے۔۔ آپ اس وقت روئے زمین پر بلاشبہ سب سے بڑے محدث، مفسر اور مفکر ہیں۔ آپ کی تفسیر ہر لحاظ سے تاریخ میں اسی طرح ایک منفرد مقام کی حامل قرار پائے گی جیسے تفسیر ابن جریر، تفسیر الکشاف، تفسیر قرطبی، تفسیر الکبیر، تفسیر زاد المسیر، تفسیر ابن کثیر ، تفسیر روح المعانی و تفسیر مظہری ، اپنے اپنے لحاظ منفرد قرار پائیں۔ ان شاء اللہ۔۔
تحریر ۔ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری 

Comments

Popular Posts